|
زہرا جیند کراچی
اجنبی شہر میں کوئی نہ شناسا نکلا
شہر کا شہر مرے خون کا پیاسا نکلا
بے بسی کیسی نظر آتی ہے ہر سمت کہ اب
گھر سے ہر شخص لئے ہاتھ میں کاسا نکلا
پشت سے وار کیا تُو نے جو تاریکی میں
حوصلہ تجھ میں مرے دوست ذرا سا نکلا
کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے یہ پوچھا میں نے
لفظ اقرار کا ہونٹوں سے
دبا سا نکلا
روٹھا روٹھا سا لگا دُور سے دیکھا جب تک
گفتگو کی تو وہ اِک شخص بھلا سا نکلا
یاد ہے زہراہمیں اس کی وفا کا دعویٰ
تجزیہ کرنے کو بیٹھے تو دلاسہ نکلا
زہرا جیند
خوابوں میں ملا تھا وہ خیالوں میں ملا تھا
یہ کس نے کہا دن کے اجالوں میں ملا تھا
وہ جس کی وفاؤں پہ بہت مان تھا دل کو
بچھڑا تو بچھڑ کر کئی سالوں میں ملا تھا
مسکان لبوں پر تھی نہ آنکھوں میں چمک تھی
اس بار وہ کچھ اور ہی حالوں میں
ملا تھا
اپنا تو نہیں تھا مگر اپنا سا لگا
تھا
اِک شخص ہمیں جاننے والوں میں ملا تھا
زہرا جیند
واسطہ بھی رکھتے ہیں رابطہ بھی رکھتے ہیں
ہم مگر محبت میں ضابطہ بھی رکھتے ہیں
کو ن کب بچھڑ جائے کس کو یہ خبر لوگو
اس لیے تو چا ہت میں فاصلہ بھی رکھتے ہیں
سا تھ چلتے ر ہتے ہیں دُور تک مگر پھر بھی
لو گ واپسی کا اِک راستا بھی ر کھتے ہیں
ٹوٹ کر محبت بھی کرنا جانتے
ہیں ہم
اور فر یب کھا نے کا حو صلہ بھی رکھتے ہیں
زہرا جیند کراچی
اِک ستارا سفر میں رہتا ہے
کوئی پیارا سفر میں رہتا ہے
ہم تو ٹھہرے ہوئے ہیں مدت سے
دل ہمارا سفر میں
رہتا ہے
اب سمندر سفر نہیں کرتا
اب کنارا سفر میں رہتا ہے
تم کو اس کی خبر نہ ہو پائی
غم تمھارا سفر میں رہتا ہے
اِک مسافر تلاشِ منزل میں
تھکا ہارا سفر میں رہتا ہے


|