|
|
|
احسان اکبر رائیگاں جسم پر کس قدر برس برسے ہر برس میں کئی طلوع و غروب کتنی ہی ماہ و منزلیں ان کی سحرِصحرا،سحر، سکوت، صبا شام تاروں کے اور طرح کے کھیت کتنی صبحیں تھیں جو نہ راس آئیں صبحیں اوراک سحر کا خواب ہوئیں کس قدر روز وشب شمار میں تھے کتنے لا انتہا تھے ہنگامے خواب خاشاک ہو گئے کتنے نیند میں خاک ہو گئے کتنے جتنے خوابوں کے سنگ سوئے ہیں اتنے صدموں کے ساتھ جاگے ہیں اپنی بے داریاں رہیں بے زار صبح بستر سے خاک اٹھی ہر بار اتنی لمبی حیات کیا معنی؟ طول عمری توماں نے میرے لئے میری خوشیوں کے ساتھ مانگی تھی |
![]()