|
علی ارمان
سنا تو تھا میں بنایا گیا ہوں گارے کا
کہاں سے مجھ کو ملا ہے مزاج پارے کا
سخن گری یہاں عجز بیاں میں آتی ہے
چلن ہے عشق کی اقلیم میں اشارے کا
لپک کے ٹوٹ گیا آج وُہ ستارا بھی
جسے تھا علم مرے دوسرے کنارے کا
زوالِ ذات کے زینے سے شہر کو دیکھو
خسارہ دیکھنے والا ہے اس خسارے کا
یہاں سے آگے قلمرو ہے حسن ِسادہ کی
علاقہ ختم ہوا میرے استعارے کا
کھپا رہا ہے ہمیں کیوں حساب دنیا میں
تو ہم سے پوچھ محبت کے گوشوارے کا
کسی کا آنسو گرا تھا مری ہتھیلی پر
زمیں پہ پہلا پڑاؤ تھا وُہ ستارے کا
جہان بھر کا اندھیرا بھی کم ہے میرے لیے
نمو پذیر ہوں جس روشنی کے دھارے کا
ٹھٹھک گئیں تھیں شکایت کی آندھیاں ارمان
چراغ اُس نے جلایا عجب اشارے کا |