|
|
|
نجیب احمد
ترا رنگ بصیرت ہو بہومجھ سا نکل آیا تجھے میں کیا سمجھتا تھا مگر تو کیا نکل آیا ذرا سا کام پڑتے ہی مزاج اک خاک زادے کا قد و قامت میں گردوں سے بھی کچھ اونچا نکل آیا زر خوشبو کھٹکتے رہ گئےدستِ گل تر میں دلِ سادہ خریدارِ دلِ سادہ نکل آیا عجب اک معجزہ اس دور میں دیکھا کہ پہلو سے ید بیضا نکلنا تھا مگر کاسہ نکل آیا کہانی جب بھی دہرائی پسِ ہر آبلہ پائی وہی محمل وہی مجنوں وہی صحرا نکل آیا پڑاؤ تک دلوں میں تھا بھٹک جانے کا اندیشہ اٹھاتے ہی قدم منزل بہ کف رستہ نکل آیا نجیب اک وہم تھا دوچار دن کا ساتھ ہے لیکن ترےغم سے تومیرا دائمی رشتہ نکل آیا |
![]()