|
|
|
صغرا صدف
خودسے نکل سکو تو میرے ساتھ تم چلو کچھ کچھ بدل سکو تو میرے ساتھ تم چلو تم سنگ ہو کہ موم ہو اس سے غرض نہیں لیکن جو چل سکو تو میرے ساتھ تم چلو یہ راستہ طویل ہے اور تیرگی بھی ہے گر کرسنبھل سکو تو میرے ساتھ تم چلو میں کانچ کا ہوں ظرفت تو،تو ہے مثال آب رنگوں میں ڈھل سکو تو میرے ساتھ تم چلو ہے انتظارِ ابر میں دامن کشا صدف موجوں پہ چل سکو تو میرے ساتھ تم چلو ......................................................... اس دشتِ آرزو میں بھٹکنے تو دے مجھے اعلان وحشتوں کا وہ کرنے تو دے مجھے یہ میرا مسئلہ ہے کہ کیسے کروں قیام پہلے وہ اپنے دل میں اترنے تو دے مجھے دیکھے تو ایک بار مجھے بھی وہ پیار سے دیدار کا گھڑا کبھی بھرنے تو دے مجھے کیوں دل سے کر رہی ہے کوئی اور ساز باز اے خواہش وصال سنبھلنے تو دے مجھے نکھریں گے اور دیکھنا پھر میرے خدو خال آنکھوں کے آئینے میں سنورنے تو دے مجھے قطرے سے میں بنوں گی سمندر مگر صدف یہ شرط ہے وہ جاں سے گذرنے تو دے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے زندگی دکھا دے مجھے راستہ مرا مجھ سے بچھڑ گیا ہے کہیں قافلہ مرا کہنا اسے بھٹکتی ہوں اس کی تلاش میں مل جائے جو کہیں تجھے درد آشنا مرا میں اس کو ڈھونڈتی ہوں کہیں دل کے آس پاس اور دل میں جھانکتا ہی نہیں بے وفا مرا نکھرا کبھی جو حسن مرا اس کی یاد میں پھر آئنہ بھی کر نہ سکا سامنا مرا بے دخل ہو چکا ہے جو دل کے دیار سے دنیا نے کہہ دیا ہے اسے آشنا مرا |
![]()