|
|
|
سید وصی شاہ باندھ لیں ہاتھ یہ سینے پہ سجا لیں تم کو جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو پھر تمیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں کیون نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو کیا عجب خواہشیں اٹھتی ہیں ہمارے دل میں کر کے منا سا ہواؤں میں اچھالیں تم کو کبھی خوابوں کی طرح آنکھ کے پردے میں رہو کبھی خواہش کی طرح دل میں بلا لیں تم کو اس قدر ٹوٹ کے تم پر ہمیں پیار آتا ہے اپنی باہوں میں بھریں مار ہی ڈالیں تم کو |
![]()