![]() |
|
|
حمایت علی شاعر ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں٘ لوگ کس لئے کیجئے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ کتنے سادہ دل ہیں اب بھی سن کے آواز جرس پیش و پس سے بے خبر گھر سے نکل جاتے ہیں لوگ شمع کی مانند اہل انجمن سے بے نیاز اکثر اپنی آگ میں چپ چاپ جل جاتے ہیں لوگ شاعر ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنھل جاتے ہیں لوگ |
![]()