| |
اسلام عظمی
میں اگر راستہ بدل جاتا
ہاتھ سے حادثہ نکل جاتا
اس لیے چیختا رہا ہوں میں
جاگتا شخص ہی سنبھل جاتا
کی عبث میں نے پرورش سچ کی
کام تو جھوٹ سے بھی چل جاتا
ساتھ سر کے ہی اُس نے جانا تھا
ایسے کیسے ترا خلل جاتا
التجاؤں کو مانتا کیسے؟
کوئی پتھر تھا وہ پگھل جاتا
رار جانے کے بعد یہ سوچا
میں بھی ویسی ہی چال چل جاتا
کاش یادوں کی رسیاں عظمیؔ
وقت کا اژدہا
نگل جاتا
|
|