Urdu Manzil


Forum
Directory
Overseas Pakistani
 

ہوٹل شیراٹن  دبئی میں  اعجاز شاہین کے ساتھ ایک شام

رپورٹ : سلیمان جاذب

متحدہ عرب امارات کا شہر دبئی کئی ایک خصوصیات سے عالم میں انتخاب ہے ۔ یہاں پچھلے تین عشروں سے مختلف شعبہ ہائے فن کے منتخب روزگار اپنے روزگار کیلئے رہتے  آرہے ہیں ۔ اردو زبان نے اپنے لئے جو نئی بستیاں دریافت کی ہیں ان میں شاید سب سے فعال و مشہور دبئی ہی ہو۔ پچھلے دنوں اردو انجمن دبئی کے زیراہتمام شیرٹن ہوٹل دبئی میں ممتاز شاعر اعجاز شاہین کے اعزاز میں ایک شام کا انعقاد کیا گیا ۔ تقریب کا آغاز قاری ٔخوش الحان حامد رضا کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ ایوارڈ یافتہ نعت خوان و شاعر حبیب جاوید نے اعجاز شاہین کی لکھی ہوئی نعت پڑھی اور داد و تحسین کے شور میں یہ مقطع پڑھتے ہوئے رخصت ہو۔ئے ۔

شاہین کس نے نعت کے حق کو ادا کیا

دفتر لئے بغل میں سب اہلِ ہنر گئے

پھر افتتاحی تقریر کیلئے اس تقریب کے روح رواں یونس یعقوبی تشریف لائے اور کہاکہ متحدہ عرب امارات کے صاحب طرز شاعر اعجاز شاہین کی پذیرائی کیلئے ان کے مداحوں نے یہ تقریب منعقد کی ہے ۔ اعجاز شاہین ایک ہمہ صفات شخص کا نام ہے ۔ آئے دن ان کی ایک نئی صلاحیت کا انکشاف ہوتا ہے ۔ یونس یعقوبی نے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا ۔شہ نشیں پر صاحب تقریب اعجاز شاہین کے علاوہ صدر تقریب سینئر شاعر شفیق سلیمی مہمان خصوصی جناب ریاض فاروق شاہی مہمانان اعزاز جناب عبدالقادر باشا ناظم ادارہ ادب اسلامی جناب سیدصغیر احمد جعفری اور ڈاکٹر اظہر زیدی رونق افروز تھے ۔ مضامین کا سلسلہ شروع ہوا تو ظفر امر محمود صدیقی فائزہ فزاء عبدالرحمن عابد طلعت زیدی رفعت علوی صبیحہ صبا اور اسلام عظمی نے اپنے مضامین پیش کئے ۔ چند اقتباسات حسب ذیل ہیں ۔

محمود صدیقی :

شاعری اعجاز شاہین کی فطرت کا حصہ ہے ۔ میں اعجاز شاہین کی ذات اور فن دونوں کا عہد طالب علمی سے قریبی مشاہدہ کررہا ہوں ۔ اعجاز شاہین کے بارے میں مجھ پر جوپہلا تاثر تھا وہی اب بھی قائم ہے ۔

فائزہ فزا :

اعجاز شاہین غزل کی جس روایت کو لے کر چل رہے ہیں وہ ولی دکنی خواجہ گیسو دراز اور خواجہ میر درد کی خانقاہوں کی پروردہ ہے ۔

عبدالرحمن عابد :

اعجاز شاہین کی شاعری مظاہر کائنات پر غور و تدبر کی دعوت دیتی ہے ۔ خود اعجاز کا اپنے بارے میں کہنا ہے کہ ’’میں انکشاف ذات و سماوات میں ہوں گم‘‘

ظفرامر :

فاعلاتن کی گر دان پر عروض کی روشنی میں شعر کہنا تو سب کو آتا ہے لیکن اپنے کلام میں سادگی کے ساتھ کوئی انوکھی بات کہہ کر حیران کر دینا اعجاز شاہین کا ہی حصہ ہے ۔

طلعت زیدی :

اعجاز شاہین ایک مختلف لہجہ اور منفرد سوچ کے شاعر ہیں ۔ شعراء کے ہجوم میں اعجاز اپنے مخصوص رنگ و آہنگ صاف پہچان لئے جاسکتے ہیں۔

رفعت علوی :

شعوری یا غیر شعوری طور پر اعجاز کی شاعری میں ایک ’’میں کا عنصر غالب ہے ۔ مگر اس کی شاعری میں جو فکری پختگی ہے وہ اسے دوسرے شعراء سے ممتاز کرتی ہے

سینئر شاعرہ  ،صبیحہ صبا  (بانی و چیف اڈیٹر اردو منزل ڈاٹ کام):

اگر آپ اعجاز شاہین کی شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو عجلت میں نہیں فرصت میں پڑھیں ۔ تب جاوداں حیرت میں گم یہ شخص آپ کو حیران کردے گا ۔

سینئر  افسانہ  نگار  ،اسلام عظمی:

اعجاز شاہین کی اپنی پہچان اور شناخت ہے ۔ کائنات اور خالق کائنات سے مکالمہ کا خاص موضوع شاعری ہے ۔ شاید وہ اپنے نسبی تعلق کی بناء پر ایسا کرنے پر مجبور بھی ہے ۔

مہمان خصوصی ریاض فاروق ساہی نے اپنی تقریر میں ادب میں تعمیری اقدار کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ جس شاعری کا فکری مرکز رضائے الٰہی ہو ایسی شاعری کی تخلیق کارِ ثواب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اعجاز جس مزاج کی شاعری کرتے ہیں اس سے وہ اپنے رب سے اجر کی امید بھی کرسکتے ہیں ۔

سینئر  شاعر اور  صدر محفل شفیق سلیمی

نے کہا کہ اعجاز شاہین کے بارے میں

یہ  بات پورے وثوق اور اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ  ایک مستند شاعر ہے ۔

جناب شفیق سلیمی کو اردو آڈیو ڈاٹ کام کی جانب سے لالۂ صحرائے ادب کا ایوارڈ پیش کیا گیا اور صاحب تقریب اعجاز شاہن کو اردو انجمن کی جانب سے ممنٹو (Momento) دیا گیا ۔

اس تقریب کی نظامت اعجاز شاہین کے دیرینہ رفیق محمود صدیقی نے نہایت احسن انداز میں کی اور درمیان میں سلیمان جاذب بھی مائیک پر آکر اپنی شگفتگی سے محفل کو خوشگوار بناتے رہے ۔

ریاض منصف

نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اہل علم و دانش کی پذیرائی کیلئے اس طرح کی تقریبات آئندہ بھی ہوا کریں گی ۔ پرتکلف عشائیے کے بعد یہ تقریب اختتام کو پہنچی ۔

اس باوقار تقریب کے منصوبہ ساز یونس یعقوبی اور ریاض منصف تھے ۔ ان کی معاونت سلیمان جاذب شیریں درانی فریدہ شبیر ظفر امر اور ب ن ساجد نے کی تھی

تصاویر کا یہ حصہ اعجاز شاہین کے دوستوں کے نام

اعجاز شاہین کے دوست ان کا جشن منانا چاہتے تھے جبکہ اعجاز شاہین اس پر آمادہ نہیں تھے لہذا جشن کو شام میں تبدیل کر دیا گیا لیکن ہوٹل کے استقبالیہ پر غلطی سے یہ تحریر آویزاں رہ گئی  (اردومنزل)۔

 

Blue bar

CLICK HERE TO GO BACK TO HOME PAGE