![]() |
|
![]()
انور
شعور
شیخ صاحب کل
ہمیں گم راہ فرماتے رہے
ہم رہے
خاموش عالی جاہ فرماتے رہے
جانے کیوں دل
کو رہا بے اعتنائی کا گلہ
گو توجہ
آپ خاطر خواہ فرماتے رہے
ہم نے قسمت کی
سیاہی کا لکھا پورا کیا
روشنی دن
رات مہر وماہ فرماتے رہے
خود ہنسی آتی
ہے اپنی سادہ لوحی پر ہمیں
وہ ستم
ڈھاتے رہے ہم آہ فرماتے رہے
ملکِ دل کی
کیفیت سے مختلف حالات میں
ما بدولت
قوم کو آگاہ فرماتے رہے
کون کہتا ہے کہ
دل رکھنا نہیں آتا انہیں
ہم غزل
پڑھتے رہے وہ واہ فرماتے رہے
کچھ کسی نے دے
دیا تو لے لیا ہم نے شعور
شاعری ہم
فی سبیل اللہ فرماتے رہے ![]() ![]() |
![]()